جمعہ, ستمبر 27, 2013

آب گم سے انتخاب - مشتاق احمد یوسفی

حویلی۔۔ اقتباس
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

        یادش بخیر! میں نے 1945 میں جب قبلہ کو پہلے پہل دیکھا تو ان کا حلیہ ایسا ہو گیا تھا جیسا اب میرا ہے۔ لیکن ذکر ہمارے یار طرح دار بشارت علی فاروقی کے خسر کا ہے، لہٰذا تعارف کچھ انہی کی زباں سے اچھا معلوم ہو گا۔ ہم نے بارہا سنا آپ بھی سنیے۔

      " وہ ہمیشہ سے میرے کچھ نہ کچھ لگتے تھے۔ جس زمانے میں میرے خُسر نہیں بنے تھے تو پھوپا ہوا کرتے تھے اور پھوپا بننے سے پہلے میں انہیں چچا حضور کہا کرتا تھا۔ اس سے پہلے بھی یقیناً وہ کچھ اور لگتے ہوں گے، مگر اس وقت میں نے بولنا شروع نہیں کیا تھا۔ ہمارے ہاں مراد آباد اور کانپور میں رشتے ناتے ابلی ہوئی سویّوں کی طرح الجھے اور پیچ در پیچ گھتے ہوتے ہیں۔ ایسا جلالی، ایسا مغلوب الغضب آدمی زندگی میں نہیں دیکھا۔ بارے ان کا انتقال ہوا تو میری عمر آدھی ادھر، آدھی ادھر، چالیس کے لگ بھگ تو ہو گی۔ لیکن صاحب! جیسی دہشت ان کی آنکھیں دیکھ کر چھٹ پن میں ہوئی تھی، ویسے ہی نہ صرف ان کے آخری دم تک رہی، بلکہ میرے آخری دم تک بھی رہے گی۔ بڑی بڑی آنکھیں اپنے ساکٹ سے نکلی پڑتی تھیں۔ لال سرخ۔ ایسی ویسی؟ بالکل خونِ کبوتر! لگتا تھا بڑی بڑی پتلیوں کے گرد لال ڈوروں سے ابھی خون کے فوارے چھوٹنے لگیں گے اور میرا منہ خونم خون ہو جائے گا۔ ہر وقت غصے میں بھرے رہتے تھے۔ جنے کیوں۔ گالی ان کا تکیہ کلام تھی۔ اور جو رنگ تقریر کا تھا وہی تحریر کا۔ رکھ ہاتھ نکلتا ہے دھواں مغز قلم سے۔ ظاہر ہے کچھ ایسے لوگوں سے بھی پالا پڑتا تھا، جنہیں بوجوہ گالی نہیں دے سکتے۔ ایسے موقعوں پر زبان سے تو کچہ نہ کہتے لیکن چہرے پر ایسا ایکسپریشن لاتے کہ قد آدم گالی نظر آتے۔ کس کی شامت آئی تھی کہ ان کی کسی بھی رائے سے اختلاف کرتا۔ اختلاف تو درکنار، اگر کوئی شخص محض ڈر کے مارے ان کی رائے سے اتفاق کر لیتا تو فورا اپنی رائے تبدیل کر کے الٹے اس کے سر ہو جاتے۔

      " ارے صاحب! بات اور گفتگو تو بعد  کی بات ہے، بعض اوقات محض سلام سے مشتعل ہو جاتے تھے، آپ کچھ بھی کہیں، کیسی ہی سچی اور سامنے کی بات کہیں وہ اس کی تردید ضرور کریں گے۔ کسی کی رائے سے اتفاق کرنے میں اپنی سبکی سمجھتے تھے۔ ان کا ھر جملہ نہیں سے شروع ہوتا تھا۔ ایک دن کانپور میں کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ میرے منھ سے نکل گیا کہ، آج بڑی سردی ہے، بولے، نہیں۔ کل اس سے زیادہ پڑے گی،۔

      " وہ چچا سے پھوپا بنے اور پھوپا سے خسر الخدر لیکن مجھے آخر وقت تک نگاہ اٹھا کر بات کرنے کی جسارت نہ ہوئی۔ نکاح کے وقت وہ قاضی کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ قاضی نے مجھ سے پوچھا قبول ہے ؟ ان کے سامنے منھ سے ہاں کہنے کی جرات نہ ہوئی۔ بس اپنی ٹھوڑی سے دو مودبانہ ٹھونگیں مار دیں جنہیں قاضی اور قبلہ نے رشتہ مناکحت کے لئے ناکافی سمجھا قبلہ کڑک کر بولے، لونڈے بولتا کیوں نہیں ؟، ڈانٹ سے میں نروس ہو گیا۔ ابھی قاضی کا سوال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ میں نے، جی ہاں قبول ہے، کہہ دیا۔ آواز ایک لخت اتنے زور سے نکلی کہ میں خود چونک پڑا قاضی اچھل کر سہرے میں گھس گیا۔ حاضرین کھلکھلا کے ہنسنے لگے۔ اب قبلہ اس پر بھنّا رہے ہیں کہ اتنے زور کی ہاں سے بیٹی والوں کی ہیٹی ہوتی ہے۔ بس تمام عمر ان کا یہی حال رہا۔ اور تمام عمر میں کربِ قرابت داری وقربتِ قہری دونوں میں مبتلا رہا۔

      " حالانکہ اکلوتی بیٹی، بلکہ اکلوتی اولاد تھی اور بیوی کو شادی کے بڑے ارمان تھے، لیکن قبلہ نے مائیوں کے دن عین اس وقت جب میرا رنگ نکھارنے کے لئے ابٹن ملا جا رہا تھا، کہلا بھیجا کہ دولہا میری موجودگی میں اپنا منہ سہرے سے باھر نہیں نکالے گا۔ دو سو قدم پہلے سواری سے اتر جائے گا اور پیدل چل کر عقد گاہ تک آئے گا۔ عقد گاہ انہوں نے اس طرح کہا جیسے اپنے فیض صاحب قتل گاہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور سچ تو یہ ہے کہ قبلہ کی دہشت دل میں ایسی بیٹھ گئی تھی کہ مجھے تو عروسی چھپر کھٹ بھی پھانسی گھاٹ لگ رہا تھا۔ انہوں نے یہ شرط بھی لگائی کہ براتی پلاؤ زردہ ٹھونسنے کے بعد  ہر گز یہ نہیں کہیں گے کہ گوشت کم ڈالا اور شکر ڈیوڑھی نہیں پڑی۔ خوب سمجھ لو، میری حویلی کے سامنے بینڈ باجا ہر گز نہیں بجے گا۔ اور تمہیں رنڈی نچوانی ہے تو Over my dead body، اپنے کوٹھے پر نچواؤ۔

      " کسی زمانے میں راجپوتوں اور عربوں میں لڑکی کی پیدائش نحوست اور قہر الٰہی کی نشانی تصور کی جاتی تھی۔ ان کی غیرت یہ کیسے گوارا کرسکتی تھی کہ ان کے گھر برات چڑھے۔ داماد کے خوف سے وہ نوزائیدہ لڑکی کو زندہ گاڑ آتے تھے۔ قبلہ اس وحشیانہ رسم کے خلاف تھے۔ وہ داماد کو زندہ گاڑدینے کے حق میں تھے۔

      " چہرے، چال اور تیور سے کوتوال شہر لگتے تھے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ بانس منڈی میں ان کی عمارتی لکڑی کی ایک معمولی سی دکان ہے۔ نکلتا ہوا قد۔ چلتے تو قد سینہ اور آنکھیں، تینوں بیک وقت نکال کر چلتے۔ ارے صاحب! کیا پوچھتے ہیں ؟ اول تو ان کے چہرے کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، اور کبھی جی کڑا کر کے دیکھ بھی لیا تو بس لال بھبو کا آنکھیں نظر آتی تھیں۔

        نگہِ گرم سے اک آگ ٹپکتی ہے اسد

        رنگ گندمی آپ جیسا، جسے آپ اس گندم جیسا بتاتے ہیں جسے کھاتے ہی حضرت آدم، بیک بیوی و دو گوش جنت سے نکال دیے گئے۔ جب دیکھو جِھلاً تے تنتناتے رہتے ہیں۔ مزاج، زبان اور ہاتھ کسی پر قابو نہ تھا۔ دائمی طیش سی لرزہ براندام رہنے کے سبب اینٹ، پتھر، لاٹھی، گولی، گالی، کسی کا بھی نشانہ ٹھیک نہیں لگتا تھا۔ گچھی گچھی مونچھیں جنہیں گالی دینے سے پہلے اور بعد  میں تاؤ دیتے۔ آخری زمانے میں بھوؤں کو بھی بل دینے لگے۔ گھٹا ہوا کسرتی بدن ململ کے کرتے سے جھلکتا تھا۔ چنی ھوئی آستین اور اس سے بھی مہین چنی ہوئی دوپلی ٹوپی۔ گرمیوں میں خس کا عطر لگاتے۔ کیکری کی سِلائی کا چوڑی دار پاجامہ، چوڑیوں کی یہ کثرت کہ پاجامہ نظر نہیں آتا تھا۔ دھوبی الگنی پر نہیں سکھاتا تھا۔ علیحدہ بانس پر دستانے کی طرح چڑھا دیتا تھا۔ آپ رات کے دو بجے بھی دروازہ کھٹکھٹا کر بلائیں تو چوڑی دار ہی میں برآمد ہوں گے۔

      " واللہ! میں تو یہ تصور کرنے کی بھی جرات نہیں کرسکتا کہ دائی نے انہیں چوڑی دار کے بغیر دیکھا ہو گا۔ بھری بھری پنڈلیوں پر خوب کھبتا تھا۔ ہاتھ کے بنے ریشمی ازار بند میں چابیوں کا گچھا چھنچھناتا رہتا۔ جو تالے برسوں پہلے بے کار ھوگئے تھے ان کی چابیاں بھی اس گچھے میں محفوظ تھیں۔ حد یہ کہ اس تالے کی بھی چابی تھی جو پانچ سال پہلے چوری ہو گیا تھا۔ محلے میں اس چوری کابرسوں چرچا رہا۔ اس لئے کہ چور صرف تالا، پھرہ دینے والا کتا اور ان کا شجرہ نصب چرا کر لے گیا تھا۔ فرماتے تھے کہ اتنی ذلیل چوری صرف کوئی عزیز رشتے دار ہی کرسکتا ہے۔ آخری زمانے میں یہ ازاربندی گچھا بہت وزنی ہو گیا تھا اور موقع بے موقع فلمی گیت کے بازو بند کی طرح کھل کھل جاتا۔ کبھی جھک کر گرم جوشی سے مصافحہ کرتے تو دوسرے ہاتھ سے ازار بند تھامتے، مئی جون میں ٹمپریچر 110 ہو جاتااور منہ پر لو کے تھپڑ سے پڑنے لگتے تو پاجامے سے ائیر کنڈینشنگ کر لیتے۔ مطلب یہ کہ چوڑیوں کو گھٹنوں گھٹنوں پانی میں بگھو کر سر پر انگوچھا ڈالے، تربوز کھاتے۔ خس خانہ و برفاب کہاں سے لاتے۔ اس کے محتاج بھی نہ تھے۔ کتنی ہی گرمی پڑے۔ دکان بند نہیں کرتے تھے۔ کہتے تھے، میاں ! یہ تو بزنس، پیٹ کا دھندا ہے۔ جب چمڑے کی جھونپڑی ( پیٹ ) میں آگ لگ رہی ہو تو کیا گرمی کیا سردی،۔ لیکن ایسے میں کوئی شامت کا مارا گاہک آ نکلے تو برا بھلا کہہ کے بھگا دیتے تھے۔ اس کے باوجود وہ کھنچا کھنچا دوبارہ انہی کے پاس آتا تھا۔ اس لئے کہ جیسی عمدہ لکڑی وہ بیچتے تھے۔ ویسی سارے کانپور میں کہیں نہیں ملتی تھی۔ فرماتے تھے، داغی لکڑی بندے نے آج تک نہیں بیچی، لکڑی اور داغ دار؟ داغ تو دو ہی چیزوں پرسجتا ہے۔ دل اور جوانی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Translate